1 نومبر، 2026، 11:26 AM

ایران نے جوہری نظریے میں تبدیلی کا کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا، محسن رضائی

ایران نے جوہری نظریے میں تبدیلی کا کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا، محسن رضائی

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضایی نے کہا ہے کہ ملک کے جوہری نظریے میں تبدیلی کے حوالے سے تاحال کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضایی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ خط پڑھ لیا ہے، تاہم ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ مخالف فریق کے لہجے میں واضح تبدیلی آئی ہے، جو ایک اچھی علامت ہے اور اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ایرانی قوم نے اپنی کامیابی اور اقتدار کو مستحکم کرلیا ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے مزید کہا کہ چونکہ امریکی حکام نے خط کے مندرجات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں، اس لیے وہ بھی فی الحال اس حوالے سے کچھ نہیں کہیں گے۔

محسن رضایی نے ایران کے جوہری نظریے میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں کہا کہ اب تک اس حوالے سے کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس معاملے پر بحث کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ایرانی قوم دیکھتی ہے کہ دشمن ملک کے جوہری مراکز پر حملے کر رہا ہے تو فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سابقہ طریقہ کار کو جاری رکھنے کی ضرورت کیوں ہے۔

محسن رضایی نے خطے کی تازہ صورتحال اور علاقائی ممالک کے ساتھ سلامتی سے متعلق مشاورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سے دو برس کے دوران یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مستقبل میں ایران کے کردار کو نظرانداز کرکے خطے میں کوئی بھی سلامتی کا انتظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بعض علاقائی ممالک کے حکام نے، جو مستقبل کے علاقائی سلامتی کے انتظامات پر بات چیت کے لیے تہران آئے تھے، خود ایرانی حکام سے ملاقات اور مشاورت کی درخواست کی تھی۔

رضایی کے مطابق، ان مذاکرات میں معاہدہ مکہ، یمن کے مسائل اور سب سے اہم مستقبل میں خطے کے سلامتی کے انتظامات کی تشکیل کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

News ID 1942524

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha